ممبئی ؍بہرام پورم ،30؍جنوری (ایس او نیوز ؍ پی ٹی آئی) سی اے اے این آر سی جیسے متنازعہ قوانین کے خلاف گجرات ، جھارکھنڈ ، آندھراپردیش ، مہاراشٹرا ، بہار اور دیگر ریاستوں میں بطور احتجاج بھارت بند منا گیا ۔ مختلف تنظیموں نے اس بند کے لئے اپیل کی تھی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے رکن مولانا سجاد نعمانی کے علاوہ مختلف دلت تنظیموں نے بند منانے کا اعلان کیا تھا۔ صورت کی ایک این جی او، بہوجن کرانتی مورچہ اور مختلف ٹریڈ یونین نے بند کی اپیل کی تھی۔ مختلف ریاستوں میں بھارت بند کا ملا جلا اثر دیکھا گیا ۔
ممبئی مین بہوجن کرانتی مورچہ نے ریل روکو احتجاج کیا چنانچہ کئی ریل اسٹیشنوں پر ٹرینس روک دی گئیں۔ بہار کے کئی اضلاع میں بھارت بند کے دوران تشدد کے واقعات پیش آئے ۔ اُڈیشہ کے بعض مقامات پر بند منا گیا ۔ بھونیشور میں قابل اعتراض نعرے بازی کرنے کی پاداش میں 30 ؍ افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مہاراشٹرا کے شہر پال گھر میں پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا۔ احتجاج کرنے والے افراد ممبئی ، آحمد آباد شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کررہے تھے۔
جنتر منتر پر سی اے اے اور این آر سی کے خلاف ہلا بول مظاہرہ کیا گیا ، اس احتجاج میں شاہین باغ کے مظاہرین بھی شریک تھے۔ مدھیہ پردیش ، اتر پردیش میں بھارت بند کا جزوی اثر دیکھا گیا۔ سی اے ااے اور مجوزہ این آر سی کے خلاف مغربی بنگال کے ضلع مرشد آباد میں ایک احتجاج پروگرام کے دوران جھڑپ میں دوافراد ہلاک اور ایک زخمی ہوگای۔ پولیس نے یہ بات بتائی۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب شہر ترمیمی قانون کے خلاف احتجاجی پروگرام پر جالنگی میں دو فریقوں کے درمیان بحث و تکرار ہوگئی۔ پولیس کے مطابق ٹی ایم سی قائدین اور شہریوں کے فورم ناگرک منچ کے ارکان کے درمیان ہاتھا پائی ہوئی ۔ یہ منچ شہریت ترمیمی قانون اور مجوزہ ملک گیر این آر سی کے خلاف اس علاقہ میں بند منارہا تھا۔ فور م کے ارکان سے کہا گیا کہ وہ بند سے دستبرداری اختیار کریں۔ اس پر صورتِ حال پر تشدد ہوگئی ۔ فریقین نے آپس میں مارپیٹ شروع کردی اور ایک دوسرے پر بم پھینکے۔ جھڑپ کے دوران ٹووہیلر گاڑیاں اور کاروں کو نقصان پہنچا گیا اور انہیں آگ لگادی گئی۔
ترنمول کانگریس کے رکن پارلیمنٹ ابو طاہر نے اس بات کی تردید کی کہ اس جھڑ پ میں پارٹی ملوث ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کانگریس اور سی پی آئی ایم کے حامیوں نے تشدد بھڑکا یا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میں نے پولیس سے درخواست کی ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لیں۔ مجرموں کو فوری گرفتار کیا جائے۔
سینئر کانگریس قائد و رکن اسمبلی منوج چکرورتی نے کہا کہ اس واقعہ میں پارٹی ملوث نہیں ہے۔ انہوں نے واقعہ کی عدالتی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا۔ زخمیوں کو یہاں مرشدآباد میڈیکل کالج اینڈ ہاسپٹل سے رجوع کیا گیا۔ اس مسلم اکثریتی ضلع میں گذشتہ سال دسمبر میں مخالف سی اے اے احتجاجیوں کے دوران تشدد اور آتشزنی کے واقعات پیش آئے تھے۔ بائیں باوز زیر اقتدار کیرالا اورکانگریس زیر اقتدار پنچاب اور راجستھان کے بعد مغربی بنگال و چوتھی ریاست بن گئی ہے جس نے 27؍جنوری کو شہریت ترمیمی قانون کے خلاف اسمبلی میں ایک قرار داد منظور کی ہے ۔ریاستی اسمبلی نے 6 ؍ ستمبر 2019 کو این آر سی کے خلاف ایک قرار داد منظور کی تھی۔